تحریر: مولانا کاشف علی رضوانی
حوزہ نیوز ایجنسی| تین دہائیوں کا عرصہ، نو مسلم اکثریتی ممالک اور لاکھوں بے گناہ جانیں یہ اعداد و شمار محض اعداد نہیں، بلکہ انسانی المیے کی داستان ہیں۔ جب بھی امریکہ نے اپنی فوجی طاقت کو بروئے کار لایا، اس کے ساتھ "جمہوریت"، "انسانی حقوق" اور "دہشت گردی کے خلاف جنگ" کے نعرے ضرور لگے، مگر حقیقت میں ان کاروائیوں کا انجام تباہی، بے گھری، اور معاشی بربادی کے سوا کچھ نہیں رہا۔
لیبیا کو لیں، جہاں معمر قذافی کی حکومت کے خلاف نیٹو کی مداخلت نے ایک خوشحال ریاست کو خانہ جنگی کی دہلیز پر لا کھڑا کیا۔ وہاں جمہوریت کا وعدہ ایک دھوکہ ثابت ہوا، اور آج لیبیا قبائلی تنازعات اور غیرملکی مداخلتوں کا شکار ہے۔ عراق میں "بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں" کا الزام جھوٹا نکلا، مگر اس جھوٹ نے ایک پورا ملک تباہ کر دیا اور خطے میں داعش جیسی انتہا پسند تنظیموں کو فروغ دیا۔
افغانستان کی بیس سالہ جنگ نے نہ صرف اربوں ڈالر ضائع کیے، بلکہ لاکھوں افغان شہریوں کی زندگیاں بھی نچھاور کر دیں۔ امریکی انخلا کے بعد جو منظر سامنے آیا، اس نے یہ ثابت کیا کہ طاقت کا ناجائز استعمال کوئی پائیدار حل نہیں، بلکہ ایک نیا بحران پیدا کرتا ہے۔ ایران کے خلاف معاشی پابندیاں، جبکہ وہاں جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کا کوئی ثبوت نہیں تھا، نے معصوم شہریوں کو غذائی قلت اور دواؤں کی کمی کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیا یہ "اقتصادی دہشت گردی" ہی تو ہے، جسے عالمی برادری نظر انداز کرتی ہے۔
شام میں پراکسی جنگ کے ذریعے کئی گروہوں کو مسلح کرنا، یمن میں سعودی اتحاد کی حمایت، صومالیہ میں ڈرون حملے، اور نائیجیریا میں خفیہ آپریشنز یہ تمام مثالیں اس امریکی سوچ کا مظہر ہیں کہ "ہمارے مفادات کے لیے جو بھی جائز، چاہے اس کے نتیجے میں پوری آبادی تباہ ہو جائے"۔
فلسطین تو سب سے دردناک باب ہے۔ غزہ میں بچوں، خواتین اور معمر افراد پر بمباری، جبکہ امریکہ ہمیشہ "اسرائیل کے دفاع کے حق" کی حمایت کرتا رہا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹیں، اقوام متحدہ کی قراردادیں، اور عالمی عدالت کے احکامات سب کو ایک طرف رکھ دیا گیا۔ یہ منظر دیکھ کر کوئی بھی سوچ سکتا ہے کہ کیا واقعی "انسانی حقوق" کا اطلاق صرف امریکی اتحادیوں پر ہوتا ہے؟
مزید برآں، امریکہ اپنے جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ جو سلوک کرتا ہے (گوانتانامو، ابوغریب) اور ڈرون حملوں میں شادیوں، جنازوں پر بھی حملے کرتا ہے، وہ خود اس کے اخلاقی دعوؤں کو جھٹلاتا ہے۔ یہ منافقت کا عالمی منظر ہے جہاں ایک سپر پاور اپنے مقررہ اصولوں کی خود خلاف ورزی کرتی ہے، پھر بھی اسے "مہذب دنیا" کا رہنما کہا جاتا ہے۔
آخر سوال یہ ہے کہ بین الاقوامی ادارے کیوں خاموش ہیں؟ کیا طاقت ہی حق ہے؟ کیا انسانی جان کی قیمت صرف اس ملک کی کرنسی پر منحصر ہے؟ جب تک عالمی برادری دوہرے معیار پر مبنی سیاست کو جاری رکھے گی، تب تک یہ المیے رہیں گے۔ امریکہ کو اپنے اعمال کا جائزہ لینا ہوگا، ورنہ تاریخ اسے امن کا علمبردار نہیں، بلکہ تباہی کا پیشہ ور یاد رکھے گی۔









آپ کا تبصرہ